اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے گزشتہ روز جنوبی ایران میں بعض مقامات پر حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد “دفاعِ خود” اور امریکی فوجیوں کو مبینہ خطرات سے محفوظ رکھنا تھا۔
سینٹ کام کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز اور اُن بحری کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جو سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ لارک کے جنوب میں امریکی جنگی طیاروں کے حملے میں ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد شہید ہو گئے جبکہ ہلاکتوں کی درست تعداد جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان عسکری پیش رفتوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کھلی رہنی چاہییں اور واشنگٹن ہر صورت اس بات کو یقینی بنائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ اب بھی ممکن ہے اور ابتدائی دستاویز کی جزئیات اور الفاظ پر سخت مذاکرات جاری ہیں۔
روبیو کے مطابق اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند روز لگ سکتے ہیں، لیکن امریکہ سفارتی راستوں کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ادھر عسکری کشیدگی کے ساتھ ساتھ قطر کا دارالحکومت دوحہ اہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد، جس میں محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں، فروری سے جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق ممکنہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کے لیے قطر میں موجود ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات کا مرکزی محور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی، ایران کے اعلیٰ افزودگی والے یورینیم ذخائر کا مستقبل اور منجمد ایرانی اثاثوں کی آزادی ہے۔ اسی تناظر میں مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر همتی کی وفد میں موجودگی کو آئندہ معاہدے کے مالی پہلوؤں کی اہمیت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ